The short life
Hazrat Abbas was born at Medina on 4th Shabaan 26 A.H.(645 A.D.). When the news of his birth reached Hazrat Ali, he prostrated himself on the ground as a token of his humble thanks to God. Imam Hussain took the baby in his arms and recited the Azan and Eqamat (Calls for Prayers) in his right and left ears respectively. Then the new born baby opened his eyes to see the beloved face of Imam Hussain. On the seventh day of his birth the ceremony of Aqeeqa (which is one of the emphasised Sunnats) was performed and Hazrat Ali named the child 'Abbas'.
A similar incident took place at the time of the birth of Hazrat Ali. He only opened his eyes when the Holy Prophet took him in his arms. Name: al-Abbas (a.s.) Title: Alamdar-e-lashkar-e-Hussain (as.), Qamar bani Hashim Agnomen: Abul Fazl Father: Imam Ali Amir al-Muminin (a.s.) Mother: Fatima bint-e-Huzzam ibn-e-Khalid (a.s.) Birth: 4th Shabaan 26 AH. Death: Martyred in Karbala (Iraq) at the age of 36, on Friday, 10th Muharram 61 AH and buried there.
درگاه و لایه باب الحوائج
عالی جناب قطب الواعظین
مولانا فرزند علی قبلہ (مرحوم)
نام زندہ ہے جسم قبرستان ایرانیاں مینی میں ابدی خواب استراحت میں ہے اور روح پرفتوح علام
بالا کی سیری میں مصروف عمل ہے ۔ جو دھرات واقف ہیں۔ سو میں دیگر قارئین کی اطلاع کے لیے
عرض خدمت ہے کہ مرحوم علم وعمل میں ایک خصوصی مقام پر نائز تھے ۔ پیدائش مضلع مظفر نگر
(ہند) کے ایک غیر معروف تصبہ بڈھانہ میں ہوتی ابتدائی علوم کا مقام بھی مشہور نہیں۔ جوانی
میں اہلیہ اور اکلوتے فرزند کا انتقال ہو گیا اور دنیا سے ایسی بیزاری ہوئی کہ پھرتا میات
رخ نہ کیا۔ عین شباب ہی میں شوق زیارت امام قبل اللہ فرجہ میں پا پیادہ بغیر کسی سامان سفر
کے نکل کھڑے ہوئے صحرا بہ صحرا فلاش امام زماں حج میں پھرتے ملک اسمان میں جا نکلے وہیں
صحبت علماء کرام میں جملہ علوم دین سے فارغ ہو کر وار د عراق ہوئے اور وہاں بھی ایران کی
طرح مجند ین کی صحبت میں شام و سر بسر کیے جس کے بعد مستقل طور پر دہی کو مستقر بنا یا
مجتہد ہونے کے باوجود نہ بھی دعونی اجتہاد فرمایا نہ کسی کو اپنی تقلید کی اجازت دی۔ نماز
جماعت کی امامت بھی کسی مجبوری کر عالم میں قبول فرماتے تھے۔ زندگی کہ بہت واقعات قابل
تقلید و باعث به که نفس تھی۔ اگر تمام و آئین اسامعین۔ سرجمع ہو۔ سکر تو قابل ملاحظہ ہ ہ
مطالعہ ایک ایسی سوانح عمری ہو گی جر ختم کیے بغیر چھوڑا نہ جا سکے گا۔ فرض دہلی والوں نہ
انہیں اس قدر نوازا کہ تمام حضرات ان کے اسم گرامی کے ساتھ دہلوی ہی لکھنے لگے آپ کا ایک
رسالہ اسباب النجات " اور " میزان اخلاق انہی کی یادگار ہیں جن کی ۱۹۴۲ء میں کتا برسی ہوئی
اور مسلح یونی کو عطا فرمائی اس فن میں کما حقہ مہارت حاصل تھی حالانکہ کبھی کسی سے یہ فن
سیکھا نہیں تھا اسی طرح مختلف صنعتوں پر دستگاہ خدادا در کھتے تھے
فالحمد لله على ذالك
درگاه عالیه باب الحوائج
معجره
قوم عارفی میں قطب جناب مولا نا فرزند علی صاحب ایک بڑے پائے کے عالم اور عامل گزرے ہیں۔
خدمت دین موصوف کا واحد مشغلہ تھا آئمہ طاہرین کے فیض و کرم سے مولانا کو بلائے معلی جانے
کا کئی بار شرف حاصل ہوا۔ وہاں اپنے قیام کے دوران انہوں نے بڑی کوشش اور جانفشانی سے حضرت
امام حسین علیہ السلام کی اصل قبر اطہر کی تھوڑی سی منی حاصل کر کے اپنی دیرینہ خواہش کو
پورا کیا اور اس خاک پاک کولا کر کر بلا بکھرہ اور کر بلا بڑھانہ میں دفن کیا اور یہ
پیشگوئی فرمائی کہ مستقبل قریب میں یہ خاک پاک انشاء اللہ رنگ لائے گی اور اس کے بعد موصوف
نے ۱۹۴۰ء میں اس دنیائے فانی سے طرف عالم جاودانی رحلت
فرمائی۔
مولا نا مرحوم کی وہ پیشگوئی مورخه ۱۹اپریل ۱۹۶۳ء بروز منگل بوقت شام ۵ر بجے ظہور پزیر
ہوئی۔ ہوا یہ کہ باغ کر بلا بگھر ہ میں ایک مسلم نو جوان اصغر نامی قوم سے تیا کی مذہب
اہلسنت کا پابند سید پورہ کا باشندہ جس کا ابھی حال ہی میں انتقال ہو گیا ہے باغ کربلا میں
اکثر لمحات میں گانے گا یا کرتا تھا۔ مذکورہ بالا وقت و تاریخ پر اس سے نہ معلوم کون سا غیر
شرعی فعل سرزد ہوا کہ ایک بزرگ نقاب پوش سفید گھوڑے پر سوار جلوہ افروز ہوئے جن کی ہیبت اور
جلالت سے درختوں کی شاخیں بلند ہو کر راستہ دینے لگیں اور سلام کے لئے سرتسلیم خم کرنے
لگیں۔ حضرت
نے آتے ہی جائے وقوع کے قریب بیٹھے اصغر کوٹھوکر مار کر اس مقام سے قدر
در گاه و عالیه باب الحوائج
دور پھینک دیا سید پورہ میں اس امر کی اطلاع ہوتے ہی بستی والے آئے اور اصغر کو بے ہوش پایا
نا دیلی دم کرنے پر جب ہوش آیا تو بزرگ کی آمد کا واقعہ سنا کر کانپنے لگا سید علی میاں
صاحب سکنہ سید پورہ جوز ائر اوّل ہیں باغ میں تشریف لائے تو سنگلاخ زمین پر گھوڑے کے قدموں
کے نشان کافی تعداد میں دیکھے شب ہو چکی تھی ، مورخہ ۱۰ار اپریل ۱۹۶۳ء کی صبح بگھرہ میں اس
معجزہ کی اطلاع ملی مردوزن ہے تابانہ دوڑے آئے تو نشانات قدم باقی پائے جن کو فوراً محفوظ
کر لیا گیا۔ جو آج بھی اپنے وجود سے واقعہ کی تصدیق کر رہے ہیں۔ اس دن سے یہ متبرک مقام
مرجع خلائق بنا ہوا ہے۔ باب الحوائج نام ہی خود آئیز تعارف ہے اس لیے عقیدت مند حضرات اور
علماء کرام وزائرین حضرات نے بتلایا کہ تشریف لانے والے بزرگ آقا و مولیٰ حضرت ابوالفضل
العباس علیہ السلام تھے، جنہوں نے اپنے بھائی اور آقا
کی قبر کی اصل مٹی کی تو ہین کو برداشت نہ کرتے ہوئے یہ معجزہ دکھایا۔
Secretary Dargah Committe
Many have witnessed miraculous blessings at Dargah Baghra Babul Hawaij through the waseela of Hazrat Abbas (a.s).
" O' ABBAS YOU ARE MY STRENGTH, AS LONG AS YU ARE WITH US, NO ONE CAN COME TO US.
1. MY UNCLE (H. ABBAS a.s.) WILL HAVE SUCH A HIGH STATUS BEFORE ALLAH (GOD) ON THE DAY
OF DOOMS,THAT ALL HE MARTYRS WILL ENVY HIM.
2. MAY ALLAH SHOWER HIS BLESSING ON MY UNCLE ABBAS, THE MANNER HE LAID DOWN HIS LIFE FOR
HIS BROTHER IMAM HUSAIN a.s., SHOWED SUPREME SACRIFICE. HE FOUGHT VALIANTLY TO PROTECT
I. HUSAIN a.s., AND IT WAS ONLY AFTER HE LOST HIS BOTH ARMS THAT HE FELL.
ALLAH, RECOMPANSATED HIM BY CONFERRING UPON IM IN HEAVEN ,TWO WINGS TO FLY WITH.
VARILY, THE PLACE OF HAZRAT E ABBAS a.s. BEORE ALLAH IS TOO HIGH
I BEAR WITNESS, O ABBAS a.s., THAT YOU HAVE REACHED THE ZENITH OF PERFECTION I THE MATTER OF RESIGNATION, LOYALITY AND OBEDIENCE.
Salana Majlis is held at Dargah Baghra Babul Hawaij. We invite all momineen to attend these sacred gatherings and earn spiritual blessings.
| Thursday | Day-1 | 4 June 2026 |
| Friday | Day-2 | 5 June 2026 |
| Saturday | Day-3 | 6 June 2026 |
| Sunday | Day-4 | 7 June 2026 |
Visitors to Dargah Babul Hawaij have experienced spiritual peace, answered prayers, and miraculous blessings. This sacred place continues to inspire faith, hope, and healing in countless hearts.